Categories
Urdu Reviews

Urdu Review: The Patience Stone – Original title: Syngué sabour, pierre de patience, سنگِ صبور

افغان فلم: سنگِ صبور
(نوٹ: یہ تحریر جناب محمد عامر ہاشم خاکوانی کی درخواست پر نائنٹی ٹو نیوز کے لئے لکھی گئی تھی لیکن تحریر پڑھنے کے بعد انہوں نے اسے شائع کرنے سے انکار کردیا ـ سو اب یہ عالمانِ فیس بک کی نذر کی جاتی ہے )
ذوالفقار علی زلفی
ایرانی اور کسی حد تک افغان اساطیر میں “سنگِ صبور” اس پتھر کو کہتے ہیں جو صبر و تحمل کے ساتھ کسی انسان کے دردِ دل کو سنے ، مانا جاتا ہے سنگِ صبور سے حالِ دل کہنے کے بعد من کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے ـ سنگِ صبور کو عموماً انتہائی ذاتی نوعیت کے رازوں میں حصہ دار بنایا جاتا ہے ـ مائتھالوجی کے مطابق انسان کے رازوں کو سننے کے بعد سنگ صبور ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے ـ
2012 کی افغان فلم “سنگِ صبور” (The Patience Stone) ایک ایسی جوان عورت کی کہانی ہے جو سنگِ صبور کو اپنی بپتا بتارہی ہے ـ یہاں مگر سنگِ صبور کوئی پتھر نہیں بلکہ اس کا نیم مردہ بوڑھا شوہر ہے ـ شوہر جنگ متاثر ہونے کی وجہ سے نہ ہل جُل سکتا ہے اور نہ ہی بول سکتا ہے ـ وہ ساکت و صامت حالت میں اپنی بیوی کی خفیہ زندگی سے آشنا ہوتا رہتا ہے ـ عورت کی وہ خفیہ زندگی جہاں اس کو سمجھنے کا دعوی کرنے والے مرد کی بھی کوئی رسائی نہیں ـ
فلم کے اسکرین پلے کے مطابق افغان معاشرے میں عورت بے زبان جانور کی مانند ہے، جو دل کی دل میں رکھتی ہے ـ دل کی دل میں رکھنا اس کی خواہش نہیں بلکہ قدامت پسند معاشرے کے اقدار و روایات کا اٹوٹ جُز ہے ـ
گھر کے باہر خانہ جنگی ہورہی ہے ـ گولیاں چل رہی ہیں ـ گھر میں عورت اپنے نیم مردہ شوہر کے سامنے دل کھول رہی ہے ـ اپنا بچپن جس میں بچپنے جیسا کچھ نہ تھا، خشک و بے رنگ جوانی ، بے جوڑ شادی ، جنسی نا آسودگی ، ٹوٹے خواب ، شکستہ امیدیں اور وہ خواہشات جو ایک افغان عورت پر حرام ہیں ـ
وہ مرد کی “مردانگی” کے قلعے کو پاش پاش کرکے اسے بتاتی ہے اس نے جنسی آسودگی کے حصول کا چور راستہ ڈھونڈھ لیا ہے ـ “سنگِ صبور” عورت کے دکھوں کو صبر و تحمل سے سنتا ہے مگر مردانگی پر حملہ اس کے اندر کے “مرد” کو جگا دیتا ہے ـ
فلم کا تجزیہ :
“سنگِ صبور” کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو عقدہ کھلتا ہے یہ پوری فلم دو بنیادوں پر کھڑی ہے ـ
اول؛ مذہب اسلام کی سماجی ساخت کی توڑ پھوڑ
دوم؛ پدرشاہیت کی نفی ـ
کوشش کریں گے ان دونوں پہلوؤں کا فرداً فرداً مختصر جائزہ لیں ـ
اسلامی سماجی ساخت کی توڑ پھوڑ :
اسلام کو مغربی لبرل فیمینزم کے ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا ہے ـ لبرل فیمینزم چوں کہ عورت کی طبقاتی شناخت کو غائب کرکے صرف اس کی صنفی شناخت کو مرکز میں رکھتا ہے اس لیے اسلام کی سماجی ساخت پر تنقید میں طبقاتی عنصر نظر نہیں آتا ـ اس کے ساتھ ساتھ فلم میں اسلام اور افغان سماج کے درمیان تعلق کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے ـ بعض ایسے ثقافتی مظاہر جن کا تعلق افغان دیہی سماج سے ہے ان کو بھی اورینٹلسٹ اپروچ کے تحت اسلام کے کھاتے میں ڈالا گیا ہے ـ فلم میں اسلام کی سماجی ساخت کو دو طرح سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے ـ
اول :
افغان خاتون کو مذہبی دکھایا جاتا ہے ـ وہ قرآن کی تلاوت کرتی ہے ، نماز پڑھتی ہے ، خدا سے ڈرتی ہے ، خدا کا ڈر اسے گناہ سے باز رکھتا ہے ـ درحقیقت یہ سب کچھ محض التباس ہے ـ عورت دراصل افغان مردانہ سماج کے اصول و ضوابط سے خوف زدہ ہے ـ اس کی نگاہ میں خدا ایک مرد ہے جس کے حکم سے سرتابی کی سزا بھیانک موت ہے گویا اسلام ایک معاشرتی ضابطہِ حیات نہیں بلکہ مردوں کا بنایا قانون ہے جس کا اطلاق محض عورت پر کیا جاتا ہے ـ افغان عورت مردانہ تسلط سے آزادی بھی چاہتی ہے اور اسے برقرار رکھنے کی بھی خواہش مند ہے ـ ـ پوری فلم میں وہ اسی ادھیڑ بُن میں رہتی ہے ـ گاہے آزادانہ جنسی لذت کوشی کا اظہار کرتی ہے اور گاہے اسے گناہ سمجھ کر قرآن کو سینے سے لپٹا کر بخشش کی طلب گار نظر آتی ہے ـ
ایک نوجوان مجاہد جو اسے فاحشہ سمجھ کر اس کا ریپ کرکے جاتا ہے وہ ناپاکی کا احساس کرکے غسل کرتی ہے اور اپنی عصمت لٹنے کے غم میں روتی ہے ـ یہاں ناپاکی اور عصمت کے تصورات کی تشریح افغانستان کے مردانہ سماجی تناظر میں کیا گیا ہے ـ عورت نوجوان مجاہد کو اسلامی پدر شاہیت (درحقیقت افغان پدر شاہیت) کا نمائندہ سمجھ کر ماتم مناتی ہے ـ اگلے سیکونسز میں جب عورت پر کھلتا ہے مجاہد ایک جنگ زدہ یتیم اور ستم رسیدہ ناتجربہ کار معصوم لڑکا ہے تو اس کے جذبات و احساسات بدل جاتے ہیں ـ وہ گناہ ، عصمت اور ناپاکی کے مردانہ سماجی تصورات کو طاق میں رکھ کر مرد کو اپنے زنانہ کنٹرول میں لے کر اپنے جنسی جذبات کا اخراج من چاہے طریقے سے کرتی ہے ـ اب نوجوان اسلامی پدر شاہیت کا نمائندہ نہیں بلکہ عورت کے اندر چھپی مدرشاہی آمریت کا شکار بن جاتا ہے ـ
معروف مارکسی دانش ور پاؤلو فریرے اپنی کتاب “تعلیم اور مظلوم عوام” میں لکھتے ہیں کہ “ظلم سہنے والوں میں ظالم بننے کا جذبہ شدید ہوتا ہے، انقلابی موضوعیت کے بغیر وہ موقع ملنے پر ظالم سے بھی بدترین ظلم کرنے لگ جاتے ہیں” ـ “سنگِ صبور” کی پروٹاگونیسٹ بھی اسی کیفیت کا شکار بنتی ہے ـ وہ معصوم لڑکے کا جنسی استحصال کرکے اپنی دانست میں محرومیوں کا بدلہ لیتی نظر آتی ہے ـ
ثانی :
اسلام کی مردانہ سماجی ساخت کی تخریب کے ساتھ ساتھ زنانہ نکتہِ نظر کے تحت اس کی دوبارہ تعمیر بھی کی جاتی ہے ـ جیسے مسجد کے اسپیکرز سے واعظ کی آواز آتی ہے :
“پیغمبر اسلام اپنی اہلیہ حضرت خدیجہ کو بتاتے ہیں کہ انہیں ایک ہیولا نظر آتا ہے جو پتہ نہیں جن ہے یا کوئی اور شے ـ حضرت خدیجہ پوچھتی ہیں کیا وہ اب بھی نظر آرہا ہے؟ ـ پیغمبر اثبات میں جواب دیتے ہیں ـ حضرت خدیجہ اپنے سر کے بال کھول کر پھر پوچھتی ہے کیا اب بھی موجود ہے؟ پیغمبر کہتے ہیں نہیں چلا گیا ـ بی بی خدیجہ بتاتی ہیں پھر جن یا شیطان نہیں یقیناً فرشتہ ہوگا کیوں کہ صرف فرشتے ہی عورت کے سر کے بالوں کا احترام کرتے ہیں” ـ
افغان عورت یہ واعظ اپنی خالہ کو سناتی ہے ـ خالہ اس کی تشریح کرکے کہتی ہے کہ بی بی خدیجہ صورتحال کو بھانپ گئی تھی اس لیے انہوں نے پیغمبر کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ ان پر کسی دیوانگی کا دورہ نہیں پڑا بلکہ وہ خدا کے پیغمبر بننے جارہے ہیں ـ اس سیکوینس کے ذریعے بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر بی بی خدیجہ یعنی عورت ایثار کا مظاہرہ نہ کرتی تو آج محمد (ص) کی جگہ وہ پیغمبر ہوتی گویا پیغمبری کی اصلی حق دار بی بی خدیجہ تھی ـ اس نکتے کو جان بوجھ کر اسکرین پلے میں نمایاں انداز میں پیش کیا گیا ہے ـ فلم کے اختتام میں جب عورت روحانی طور پر مردانہ تہذیبی تسلط سے آزادی پالیتی ہے تو فاتحانہ انداز میں کہتی ہے اب میں پیغمبر بن گئی ہوں ـ حالانکہ مردانہ تہذیبی تسلط کا اسلام یا اس کے عقائد سے براہِ راست تعلق نہیں ہے ـ پدرشاہیت کا تعلق طرزِ معیشت سے ہے ـ تاہم فلم چوں کہ افغان عورت کی محکومیت کو جدید نوآبادیاتی نظام اور افغان سماج کے فرسودہ پیداواری تعلقات کے تناظر میں دیکھنے کی بجائے پہلے سے طے شدہ خیال کے تحت اسلام کو مرکز میں رکھتی ہے اس لئے یہ گمراہ کن نتیجہ باعثِ تعجب نہیں ہوتا ـ علاوہ ازیں اسکرین پلے فیمیل پروٹاگونسٹ کی طبقاتی شناخت کو بھی حاشیے پر رکھتی ہے ـ عورت کی محکومیت میں طبقاتی شناخت کا بھی اہم کردار ہے لیکن فلم اس کو بھی کونے میں رکھ کر محض اسلام کو ہی نشانے پر رکھتی ہے ـ ان نکات کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ “سنگِ صبور” آخری تجزیے میں اسلام اور اس کے عقائد کو پدرشاہیت کی علامات مان کر ان کی کاملاً نفی کرکے مغربی لبرل فیمنزم کے اسلام بیزار نظریے کی ترویج کرتی ہے ـ
دوم :
فلم کی دوسری اہم بنیاد پدرشاہیت کی نفی ہے ـ گوکہ پدرشاہیت اور اسلام کو ایک ہی سکے کے دو رخ قرار دیا گیا ہے لیکن اس کی تنقید کے لئے الگ علامتوں کا سہارا بھی لیا گیا ہے ـ پدر شاہیت کی تنقید میں بھی مغربی لبرل فیمینزم کے نظریے کا سہارا لیا گیا ہے ـ
اسکرین پلے کے مطابق افغان معاشرہ وحشی مردوں کا مسکن ہے جہاں عورت محض ایک گوشت کا لوتھڑا اور چھید ہے جس پر تصرف ہر مرد کا سماجی لحاظ سے پیدائشی حق ہے ـ یہ بات کاملاً درست ہے ذاتی ملکیت پر مبنی سماج میں عورت بھی ایک قابلِ خرید و فروخت جنس بن جاتی ہے لیکن فلم ذاتی ملکیت پر مبنی پیداواری نظام اور عالمی سرمایہ داریت کی مداخلت پر تنقید نہیں کرتی جس نے افغان معاشرے کے مثبت ارتقا کا راستہ روک رکھا ہے ـ ہدایت کار صنفی عدم مساوات کو سطحی طور پر عورت بمقابلہ مرد بنا کر پیش کرتی ہے ـ پھر اس عدم مساوات کو مغربی اورینٹلزم کی عینک سے دکھایا جاتا ہے ـ
افغان عورت کی زبانی بتایا جاتا ہے اس کا باپ ایک ایسا وحشی درندہ تھا جو گھر کی عورتوں کو بلاوجہ تشدد کا نشانہ بناتا تھا ـ بیٹی بیچتا تھا ـ اپنے متعلق وہ بتاتی ہے کہ چوں کہ اس کا منگیتر جنگ میں مصروف تھا اس لیے ناچار اس کی شادی منگیتر کے خنجر سے کی جاتی ہے ـ یہاں خنجر کی علامت کو افغان جنگجو مرد کے عضو تناسل کی صورت برتا گیا ہے ـ خنجر ایک ہتھیار ہے جس سے فتوحات کی جاتی ہیں ـ گویا عورت ایک ایسی ملکیت ہے جسے مرد اپنے ہتھیار سے قابو کرتا ہے ـ
اس کی ساس اپنے دیگر بیٹوں سے اسے بچانے کے لیے اسے اپنے ساتھ سلاتی تھی ـ اس کا شوہر ازدواجی زندگی کے دس سالوں میں اس کے ساتھ عدم الفت پر مبنی یکطرفہ جنسی تعلقات رکھتا ہے ـ دیور اپنی بھابھی پر ہوس ناک نظر رکھتا ہے ـ شوہر جب مفلوج ہوجاتا ہے تو دیور اس انتظار میں رہتا ہے کب بھائی مرجائے اور وہ بیوہ بھابھی پر ہاتھ صاف کرسکے ـ اسی طرح محلے کا مولوی بھی اس کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے کا خواہش مند نظر آتا ہے جسے وہ ہر وقت حیض کا بہانہ بنا کر ٹالتی رہتی ہے ـ افغان مجاہدین کا کمانڈر بھی تنہا عورت کو دیکھ کر ریپ کا ارادہ باندھتا ہے لیکن جب عورت اسے بتاتی ہے کہ وہ ایک جسم فروش ہے تو کمانڈر اسے اسلام اور گناہ پر لیکچر دے کر چلا جاتا ہے ـ بعد میں بتایا جاتا ہے افغان مرد طوائفوں کا ریپ نہیں کرتے کیوں کہ اس سے ان کی مردانگی کو تشفی نہیں ملتی ـ
درج بالا چیدہ چیدہ نکات سے جو تصویر سامنے آتی ہے وہ بیک وقت جنسی گھٹن کے شکار معاشرے اور دوسرے مرد کی ذاتی ملکیت (عورت) پر قبضہ کرنے کی ہے ـ جہاں ہر مرد عورت پر للچائی نگاہیں گاڑے بیٹھا ہے ـ صنفی جبر کو مزید واضح کرنے کے لیے طلاق، بانجھ پن اور بکارت کو بھی موضوعِ بحث بنایا گیا ہے ـ عورت طلاق سے ڈرتی ہے ـ طلاق بھوکے بھیڑیوں سے پُر جنگل میں بکری بننے کے مشابہ ہے ـ طلاق سے بچنے کے لیے عورت باکرہ ہونے کے باوجود نفسیاتی خوف کے باعث ایامِ حیض میں شوہر کے ساتھ شبِ زفاف مناتی ہے تاکہ حیض کا خون بکارت ثابت کرسکے ـ بانجھ پن کے الزام کے باعث جب ساس اس کے شوہر کو دوسری شادی کا مشورہ دیتی ہے تو وہ پیروں فقیروں سے علاج کے بہانے ایک اجنبی مرد سے “زنا” کرکے خود کو حاملہ کرواتی ہے ـ اسی طرح مجاہد کمانڈر کا طوائف کے ریپ سے احتراز اس بات کی علامت ہے کہ افغان مرد اس عورت پر قبضہ کرنے کی کوشش کو اپنی مردانگی کے خلاف تصور کرتا ہے جو کسی کی ذاتی ملکیت نہ ہو ـ
اسلامی سماجی نظام جو فلم کے مطابق درحقیقت مردانہ پدر شاہیت کی علامت ہے کے باعث عورت زنا کو گناہِ کبیرہ گردانتی ہے ـ شوہر کے علاوہ دیگر مردوں کو جسم پر تصرف دینے سے منکر نظر آتی ہے ـ شوہر کے خنجر کو پاسبان مان کر اس کے ذریعے مردانہ تصور عفت کو اپنا مان کر اس کا تحفظ کرتی ہے ـ لیکن جب معاملہ اس کی اپنی زندگی اور مستقبل کا ہو تو وہ یکایک پینترا بدل کر متضاد ردعمل کا اظہار کرکے اسلامی سماجی نظام کے اقدار و روایات کو توڑ دیتی ہے ـ
عورت کے اس متضاد ردعمل کی متعدد نفسیاتی توجیہات ہوسکتی ہیں ـ تاہم افغانستان کے پسماندہ پیداواری تعلقات کے تناظر میں عورت کے ردعمل کو غیر مساویانہ پیداواری رشتوں میں تلاش کیا جاسکتا ہے ـ جہاں عورت محض ایک عضوِ معطل جبکہ مرد عالمی سرمایہ داریت کی زائد منافع خوری کی آگ میں جھلستا وجود ہے ـ اس کو اسلام سے جوڑنا یقیناً درست نہ ہوگا ـ
حرفِ آخر
قدامت پسند افغان سماج کے تناظر میں یہ فلم کسی تازیانے سے کم نہیں ـ افغان ناول سے ماخوذ اسکرین پلے اور گرد و پیش کے مناظر سلیقے کے ساتھ یکجا کئے گئے ہیں ـ ہدایت کار یقیناً داد کے مستحق ہیں ـ تعریف کے قابل افغان عورت کے کردار میں جلاوطن ایرانی اداکارہ گل شیفتہ بھی ہیں جنہوں نے بڑی خوب صورتی سے اس کردار کو نبھایا ہے ـ
ہدایت کار Jean-Claude فرانس سے جبکہ مرکزی اداکارہ گل شیفتہ کا تعلق چونکہ ایران سے ہے اس لئے اس فلم کو مکمل طور پر افغان فلم قرار دینا تھوڑا مشکل ہے ـ اسی لئے اسے اگر افغان فرنچ مشترکہ پیشکش قرار دیا جائے تو بہتر رہے گا ـ
[imdb]tt1638353[/imdb]
Categories
FilmiTips Urdu Reviews

فلم ریویو: بلال ۔۔۔ احمد ثانی

Bilal: A New Breed Of Hero
IMDB. 8/10
Goggle. 94%
Genre. Action. Adventure
Produced by Barajoun ENTERTAINMENT
Co-directed by Khurram H. Alavi and Ayman Jamal

بلال ۔ انگلش لینگویج تھری ڈی عربک بیک گراونڈ پر مشتمل ایک ایسی مووی جسں کا دسمبر 2015 میں سالانہ دبئی انٹرنیشنل فلم فیسٹول میں پریمیئر شو پیش کیا گیا اور پھر اس کی باقاعدہ ریلیز ستمبر 2016 میں مڈل ایسٹ ریجن کے سینماوں میں کی گئی۔
کینز فلم فیسٹول 2016 میں بیسٹ انسپائرنگ مووی کا ایوارڈ ، اور اسی سال بیسٹ انویٹو اور بیسٹ اینیمٹڈ مووی کے ایوارڈ کے لیئے بھی نامزد کی گئی ۔ انٹرنیشنلی اسے باقاعدہ 2018 میں ریلیز کیا گیا۔
سٹوری / پلاٹ 
رائٹر، پروڈیوسر، ڈائریکٹر کا یہ دعوی ھے کہ وہ اس فلم کے ذریعے دنیا کو آغاز اسلام کے ایک نئے پہلو سے روشناس کرائے گیں۔ یعنی غلامی / غلام / ۔ ایک ایسا لفظ جو کہ یقینا مہذب دنیا میں اب گالی کا متبادل بن گیا ھے۔
فلم کا آغاز بہت ہی خوبصورت اینیمٹڈ بہترین نقش و نگار کے حامل ملبوسات زیب تن کیئے ہوئے دو ننھے بچوں بلال اور انکی بہن غفیرہ کی ننھی منھی شرارتوں سے ہوتا ھے ۔ فلم میں پیش کی گئی بلال کی والدہ کی نصیحتیں اور بلال کی نوجوانی کے تھاٹس یقینا سنہری الفاظ سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ تمثیلا پیش کیئے گئے شہر مکہ کے نظارے اور قبل از اسلام ماحول چشم کشا ھے ۔ قبل از اسلام اور ظہور اسلام کے چند آئیکونز کی تمثیلا پیش کی گئیں اینیمٹڈ کردار نگاری ان کرداروں کی عظمت سے عین مطابقت رکھتی نظر آئی ۔ میرے نزدیک فلم کی جان غزوہ بدر کی تمثیل نگاری ھے جو کہ کمال ترین ڈیٹیل کی حامل ھے۔

اعتراضات / اعتراضات / اعتراضات

مستنصر حیسن تارڈ اپنے سفر حج پر مشتمل سفر نامے ” منہہ ول کعبے شریف ” میں کچھ یوں رقمطراز ہیں کہ
“خاندان سعود جس شدت سے شرک و بدعت کے نام لیواوں کو مٹانے کی خاطر چودہ سو سال پہلے والی زمینی نشانیاں ” فلیٹ” زمیں بوس کرنے پر عمل پیراء ہیں زیادہ وقت نہی کہ ہزار سال بعد اسلام کے سچے واقعات بھی اس نسل کو دیو مالائی کہانیاں معلوم ہوں۔ “

اینیمٹڈ مووی دیکھتے ہوئے یہ الفاظ خود بخود مجھے یاد آ گئے یقینا یہ مووئ وقت سے بہت پہلے پیش کی گئی ھے ابھی ہمارے اذہان تیار نہی کہ ہم جید صحابہ کرام کی اینیمٹڈ تمثیل نگاری یوں دھڑلے سے دکھا سکیں۔ دو جیئد خلفائے راشدین کی اینیمٹڈ تمثیل نگاری نے تو مجھ جیسے دماغ کے حامل شخص کو بھی جائز و ناجائز کی بحث میں ڈال دیا۔ مگر تمام تر خیالات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فلم پوری دیکھ ہی ڈالی ۔ اور یقینا یہ ایک ورتھ واچنگ فلم ھے اور مہذب دنیا میں ایک نئے پہلو سے اسلام کا چہرہ روشناس کرانے میں یقینا مددگار ثابت ہو گی ۔
میرا اعتراض صرف ایک ہی ھے اس فلم پر تقریبا تقریبا تمام فلم زمینی حقائق پر مبنی تھی یہ کیونکر ضروری سمجھا گیا کہ غزوہ بدر میں فرشتوں کی فوج اترتی دکھائی جائے۔  ایک اچھی خاصی بائیو گرافی کو فکشن بنا دیا۔

یہ فلم اب زیر بحث کیوں آئی ؟

ٹیلوستان نامی ایک ویب سائٹ اردو کی محبت سے مجبور ہو کر دنیا بھر سے اچھا ڈیجیٹل مواد اردو سب ٹائٹل و ترجمے کے ساتھ اپنی ویب سائٹ پر اپلوڈ کر کے پیش کر رہی ھے۔ بلال کی اردو سب ٹاٹلنگ بھی ٹیلوستاں کا کارنامہ ھے۔ فلم دیکھنے کے بعد میں نے ٹیلوستاں کے اونر جناب عمار ضیا کو میسج کیا کہ اس فلم کا سب ٹائٹل کسی پنجابی نے لکھا ھے کیا ؟ عمار صاحب نے تھوڑی حیرانی اور شش وپنج کے بعد قبول کیا جی واقعی فلم کا سب ٹائٹل لکھنے والے حضرت کی مادری زبان پنجابی ہی ھے مگر آپ کو کیسے پتا ؟؟ انہیں تو اس سوال کا جواب میں نے اب تک نہی دیا آپ فلم دیکھیں اور اس سوال کا جواب تلاش کیجئے صحیح جواب دینے والے کو ایک سرپرائز گفٹ میری طرف سے  ۔
فلم 1080 پکسل میں درج ذیل لنک پر دستاب ھے ۔

Bilal on Televistan

[imdb]tt3576728[/imdb]
x (x)
Categories
FilmiTips Urdu Reviews

ایونجر اینڈ گیم۔۔۔۔۔۔احمد ثانی/فلم ریویو

بقول شخصے”عجیب وقت چل رہا ہے،نہ گوٹ کے آنے کی خوشی ہے ،نہ ایوینجرز کے جانے کا غم، کہ قطار در قطار تماشے ہیں منتظر” ۔
تو بھائیو اور بھائیو کی بہنوں ۔۔۔سلامتی کی دعا کے ساتھ حاضرِ بزم ہوں ۔
وہ آیا اُس نے دیکھا اور چھا گیا والی مثال ہوئی پرانی۔ یہ  ز  مانہ ہے ریسرچ، پلاننگ ، ری ویو اور ایگزیکیئوشن کا۔ نارمل دماغ کی اپروچ جہاں ختم ہوتی ہے وہاں سے کریئٹو دماغ کے کمالات کا آغاز ہوتا ہے ،ایونجر اینڈ گیم بھی ایسی ہی ایک مثال ہے کریٹیوٹی کی ۔ یہ فلم نہیں ایک دور کا اختتام اور ماروول کے بیشتر ہیروز کے نئے لیول / اپگریڈ ورژن کا آغاز ہے۔
فلم پر بہت اچھے اچھے ری ویوز آپ پڑھ چکے ہوں گے میں آخر میں چند لائنز میں فلم کی کہانی کو سمیٹوں گا کیونکہ ری ویو لکھنے کا مقصد ماروول کی کریئٹوٹی کو ڈسکس کرنا ہے اینڈ گیم کو نہیں امید ہے   احباب رائے ضرور دیں گے ۔

سپر ہیروز پر مبنی کامک بک اور اُس پر بننے والی فلمز کی کامیابی کا یہ تیسرا عشرہ ہے۔ بے شک یہ دہائی فکشن سیریز کی بہترین کمائی کی دہائی ثابت ہوئی ہے۔ جہاں دھن برستا نظر آئے وہاں کی کمائی کی خرابیاں گنوا کر بھی دھن کمایا جانا اب ایک ہنر بن چکا ہے، سو، ناقدین کی بھرپور لابنگ آخر کار رنگ لائی سپر ہیروز میں سے سپر پاورز کو کم سے کم ہائی  لائٹ کرنے کی کاوش اور سپر ہیروز کو بطور انسان پیش کرنے کی جستجو کے سلسلے کی ایک کڑی اینڈ گیم میں جوڑی گئی (کیپٹن امریکہ کے حوالے تھور کا ہتھوڑا کرنے کے بعد اُسے اب جلد ہی سپر مین کے بلمقابل لا کھڑا کیا جائے گا۔ کیپٹن ماروول اور کیپٹن امریکہ میں ایک خصوصی قدرِ مشترک رکھی گئی ہے اور وہ ہے انکا بیسکلی انسان ہونا)

ماروول کے ریسرچر ایک بات بخوبی جانتے ہیں کہ انسانی نفسیات کا تقاضا ہے تنوع پسندی، آپ سپر ہیروز کا ڈھیر لگا کر نئے کپڑے نئے کاسٹیوم پہنا کر زیادہ دن ایک ہی منجن نہیں  بیچ سکتے پھر جہاں کمپیٹیشن سپر مین جیسا ہیرو ہو جو دنیا بھر میں بچے بچے کی زبان پر چڑھا ہو جس کا   ہر خطے میں بکنا ماروول کا منہ  کڑوا کر دیتا ہو اُس جیسے سپر ہیرو کے لیئے ماروول کے سپر ہیروز کی فرسٹ جنریشن لانچنگ ایک ٹیسٹ کیس تھا جسکا رزلٹ اینڈ گیم کو دیکھ کر بخوبی سمجھا جا سکتا ہے ۔
زرا ماروول کی آنے والی چند فلموں پر نظر ڈالیں۔

سپائیڈر مین ۔ فار فرام ہوم ( جون 2019)
بلیک وڈو ( 2020)
بلیک پینتھر 2 ( 2021)
ڈاکٹر سٹرینج 2 ( 2021)
گارڈیئن آف گلیکسی ( 2020)

آپ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ 15 سال لگا کر بنایا جانے والا پلیٹ فارم “ایونجر” ماروول ابھی چھوڑنے کے موڈ میں نہیں  وہ ایونجر کو کیش کرواتا رہے گا مگر ماروول کی نظریں ڈی سی کے آئیکون سپر مین پر ہیں ۔ کیا سابقہ کیپٹن امریکہ اور کیپٹن ماروول کی جوڑی سپر مین کو نیچا دکھا پائے گی، ملین ڈالر کوئسچن ؟؟
سپر ہیروز کی سیکنڈ جنریشن اور فیمنزم کا نعرہ وقت کا تقاضا تھا جو ماروول نے بروقت پورا کیا مگر بزنس کا تقاضا ہے کہ کمپیٹیشن کے  آئیکون سپر مین کے مارکیٹ شیئر ماروول کا کوئی سپر ہیرو لے اڑے ۔ ایوینجر سیریز کو ختم نہیں اپ گریڈ کیا گیا ھہے ۔ اور اس سیریز کا اس سے بہتر استعمال ممکن ہی نہیں  تھا ۔ قارئین سے التماس   ہے  میرے ری ویو کو حرفِ آخر نہ  سمجھیں۔ اختلاف رائے آپ کا حق ہے یہ  تحریر  جسٹ ایک analysis ہے ۔

بابت ۔ Avenger End Game
ایک مکمل فیملی ڈرامہ ۔ پرانے سلسلے کو بہت خوبصورتی سے ایک نئے سلسلے سے جوڑ دیا گیا ہے ۔ سپر ہیروز کی اپ گریڈ ورژن لاٹ ماروول کے کمپیٹیشن کو یقیناً  ٹف ٹائم دیئے رکھے گی ۔ بزنس میں یہ فلم کئی نئے ریکاڈز قائم کر دے گی اور اسکی وجہ فلم کا بہترین ہونا نہیں  بلکہ  جتنے بڑے سرکٹ میں یہ ریلیز ہوئی ہے اور جتنی ہائپ پر جا کر اس فلم کی پروجیکشن کی گئی ہے وہی ماروول کی اصل جیت ہے ۔فلم کے چند وہ مناظر جسمیں تھور ۔ آنٹ مین ۔ اورہلک کی ابتدائی واپسی ہے غور سے دیکھے جانے کے مستحق ہیں۔ کئی اشارے پنہاں نظر آئے جن کا ذکر اس پوسٹ کو سپوائلر بنا سکتا ہے ۔ لہذا اس سے گریز ہی بھلا ۔
مکمل پیسہ وصول اور کئی بار دیکھے جانے لائق فلم ۔ ریکمنڈ فار مسٹ واچ ۔

[imdb]tt4154796[/imdb]

Categories
FilmiTips Urdu Reviews

فلم ریویو 2.0۔۔ احمد ثانی

 “یہ دنیا صرف انسانوں کے لیئے نہیں ھے”

فلم ریویو ۔ 0•2

موضوع ۔ ایکشن ۔ سائی+فائی۔ تھرلر

دو گھنٹے اٹھائیس منٹ ۔

Rating: IMDB -8•2

Rotten tomatoes 70%

Google audience: 92%

Release Date: 29 No18

   

نمایاں کاسٹ۔ 

رجنی کانت، اکشے کمار، ایمی جیکسن۔

ڈائریکٹر/رائٹر: شنکر شنمگم ( تامل فلمز ڈائریکٹر اینڈ موسٹ ایکسپینسیو ڈائریکٹر آف انڈیا)۔ 

آگیا۔ شنکر کا وہ شاہکار تھا جو کرا رہا تھا سب کو انتظار۔ مہنگے ترین بجٹ پر مبنی مکمل طور پر تخیلاتی اور کسی حد تک ایک کامک سٹوری پر مبنی (مگر ایک بہترین سوشل ایشو کو ہائی لائٹ کرتی) پہلی انڈین فلم جو بجٹ کے حوالے سے دنیا میں نویں نمبر پر ریٹڈ کی گئی ھے (ہالی وڈ فلمز کے علاوہ)۔ 

بہت ہی بیکار فلم ان فلم بینوں کے لیئے جو بامقصد فلم دیکھنے سے اکتاتے ہیں اور چند خامیوں کے باوجود ایک بہترین فلم اُن فلم بینوں کے لیئے جو فلم کو انفوٹینمنٹ (انفارنیشن +انٹرٹینمنٹ) کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ 

تامل، ہندی اور تیلگو زبان میں ایک ساتھ دس ہزار سینما سکرینز پر ریلیز ہونے والی پہلی VFX فلم جو کہ یقینا باکس آفس پر کئی نئے ریکارڈ قائم کر پائے گی ۔

فلم کی تھیم سابقہ فلم روبوٹ (2010) کے کیریکٹرز پر ہی مبنی ھے مگر اس فلم کی کہانی اس لحاظ سے بہت بامقصد ھے کہ اس فلم میں ایک انتہائی اہم سوشل اور ماحولیاتی ایشو کو ایڈریس کیا گیا ھے۔ موبائل فونز اور موبائل فونز ٹیکنالوجی کے استعمال سے پھیلتی ریڈی ایشن اور اسکے ماحول دشمن اثرات کا اثر کیسے ہمارے ماحول دوست جانداروں کے لیئے تباہی کا باعث بن رہا ھے یہ فلم دیکھ کر آپ اِس ایشو کے متعلق بہت بہتر طور پر آگاہ ہو سکتے ہیں۔ 

میری ریکمنڈیشن یہ ہو گی کہ آپ اپنی فیملی کے ساتھ یہ فلم تھری ڈی میں ضرور دیکھیں تا کہ ہمارے بچے موبائل فون کے مضر اثرات کو لیکر تھوڑا بہت کانشس ہو سکیں ۔

مکمل طور پر فیملی فلم جو کہ صرف ایک گانا لیئے ہوئے ھے (وہ بھی اے آر رحمن کی کمپوزیشن کے ساتھ) کمپلیٹ فیملی انٹرٹینمنٹ ھے۔ فلم کی واحد خرابی اسکا ڈھائی گھنٹے کا دورانیہ ھے جو کہ سنسر کی مہربانی سے پاکستان میں سوا دو گھنٹے کر دیا گیا ھے۔ یہ ایک بہترین سائنس فکشن / تخیلاتی فلم میں شمار ہو سکتی تھی مگر کیونکہ اسے انڈین سینما سرکٹ میں ریلیز ہونا تھا اس لیئے انڈین ٹچ اور فلوک نے فلم کے بہترین ہونے کا تاثر زائل کر دیا مگر یہ ایک مکمل پیسہ وصول فلم پھر بھی ھے۔

بشکریہ: مکالمہ

[imdb]tt5080556[/imdb]

x (x)
x (x)
Categories
FilmiTips Urdu Reviews

لوڈ ویڈنگ ۔۔فلم ریویو۔۔۔۔ احمد ثانی

_Load Wedding
IMDB : 8.3
Duration : 2 hours 18m
ڈائریکٹر : نبیل قریشی
نمایاں اداکار ۔ مہوش حیات، فہد مطفئ، ثمینہ احمد، قیصر پیا، نورالحسن
رائٹر : فضاء علی میرزا، نبیل قریشی

Simply A Master Piece
اردو میں کہوں تو کمال است۔۔۔۔
ایک ایسی فلم جو اگر انڈین سینما سرکٹ پر پیش کر دی جائے تو سو کروڑ کلب میں دیکھتے ہی دیکھتے نئے ریکارڈ قائم کر کے پہنچ جائے۔ اور ساتھ ساتھ کئی معتبر ایوارڈ بھی حاصل کر سکتی ہے۔ افسوس کہ اس وقت اس کا مقابلہ دو ایسی فلموں ( جوانی پھر نہیں آنی 2 اور پرواز ہے جنوں ) سے  ہے جن کا پرموشن بجٹ اور پرموشنل سٹرٹیجی لوڈ ویڈنگ سے بہتر ہے جسکی وجہ سے خصوصا ً   جوانی پھر نہیں آنی 2 مقابلتا ً اچھا بزنس کر رہی ہے ورنہ کہانی اور پریزینٹیشن میں لوڈ ویڈنگ  “جوانی پھر نہیں آنی 2″سے بہت بہت بہت بہتر  ہے۔ دلچسپ چیز یہ ہے کہ نبیل کی اس سے پہلی فلم ایکٹر ان لاء مکمل طور پر کراچی کا بیک گراونڈ لیئے ہوئے تھی اور اب یہ فلم بہت ہی خوبصورت پنجابی ( لاہوری) بیک گراونڈ لیئے ہوئے ہے اور دونوں فلموں کی پریزینٹیشن انتہائی شاندار ہے۔

سچویشنل کامیڈی ہو یا لو کامیڈی، ڈارک کامیڈی ہو یالافٹر پنچ ہر طرح کی کامیڈی سے آراستہ ایک ایسا خوبصورت ڈرامہ جو آپ بلا ججھک پوری فیملی کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں، ایک بہترین میسج سے آراستہ مکمل فیملی فلم، میوزیشن و گلوکار شانی ارشد کے کمپوز کیئے گئے بہت ہی بہترین ساؤنڈ ٹریکس سے مزین یہ فلم نہ صرف بہترین میوزک بلکہ  عمدہ لیئریکس لیئے ہوئے ہے۔
بلاشبہ فہد مصطفئ نے بہت خوبصورت ایکٹنگ کا مظاہرہ کیا مگر ان کے علاوہ ہر ایکٹر اپنے کیریکٹر میں نگینے کی طرح فٹ بیٹھا حتئ کہ سٹیج اداکار قیصر پیا بھی بہترین پرفارمنس دیتے ہوئے نظر آئے۔

خواتین کے پوائنٹ آف ویو سے مہوش کمال کی ڈریسنگ کما ل  رہی کئی نئے نکور سادہ گھریلو اور پر کشش  پہناوؤں کے ڈیزائن فلم دیکھنے کے ساتھ ساتھ آپ بونس میں نوٹ کر سکتی  ہیں۔ فلم میں باریک بینی کا ڈائریکٹر نے اتنا خیال رکھا ہے کہ ایک سین جو کہ cameo پر مشتمل ہے اس میں پانچ روپے کا نوٹ تک اسی پرانے زمانے کا استعمال کیا گیا ہے ( حالانکہ کوئی بہت نمایاں نہیں وہ نوٹ اُس سین میں )۔

تبصرے کو لپیٹتے ہوئے اتنا ہی کہوں گا کہ اگر اس ویک اینڈ پر آپ شش و پنج میں ہیں کہ جوانی پھر نہیں آنی 2 دیکھیں یا لوڈ ویڈنگ تو بلا ججھک لوڈ ویڈنگ دیکھنے چلے جائیں۔ کیونکہ جپنا جسٹ ٹائم پاس مووی ہے جبکہ لوڈ ویڈنگ ایک لٹل ماسٹر پیس۔

بشکریہ: مکالمہ
[imdb]tt8581366[/imdb]
x (x)
Categories
FilmiTips Netflix Urdu Reviews

فلم ریویو: مقدس جنگیں Sacred Games ۔۔۔ احمد ثانی

ثبات ھے تغیّر کو صرف زمانے میں۔۔۔

نیٹ فلیکس Netflix کی ایک نئی ڈرامہ سیریز جسے سیف علی خان اور نوازالدین صدیقی جسے نگینوں سے سجایا گیا ھے، 2006 میں وکرم چندرا کی جانب سے لکھے گئے ایک ناول کو نیٹ فلیکس کی پہلی اوریجنل انڈین سیریز کی کہانی بننے کا اعجاز حاصل ہوا۔ سیریز کے دو ڈائریکٹر میں سے ایک انوراگ کیشیئپ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ جولائی 2018 میں یہ سیریز ویب ٹی وی نیٹ فلیکس کے تھرو لانچ کی گئی جسکا پہلا سیزن 8 اقساط پر مشتمل ھے ۔
کوئی دو سے تین دھائی پہلے تک را اور ہمارے فرشتے سپیشل فنڈنگ کروا کر ایک دوسرے کے مُلکوں کے خلاف فلمیں بناتے تھے تاکہ رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کیا جاسکے مگر تبدیلی نے یہاں بھی اپنا رنگ دکھایا اور اور جدید وقت کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے انڈین ایجنسی را نے را کی فنڈنگ سے آراستہ ڈرامہ سیریز ایک ایسے میڈیم سے لانچ کر دی کہ ہمارے فرشتے دیکھتے ہی رہ گئے۔ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نا ہونے کا یہ نقصان ہوتا ھے کہ ہمارا competitor ہم سے ایک قدم آگے نکل جاتا ھے اور ہم منہہ دیکھتے رہ جاتے ہیں ۔
مقدس جنگ سیریز سے متعلق کچھ بتانے سے پہلے میں اپنے ہم وطنوں کو سے یہ فیڈ بیک شیئر ضرور کرنا چاہوں گا کہ سینگ کٹوا کر کٹّے بننے والے معمر رانا جیسے بابوں اور حمزہ عباسی جیسے لونڈوں کو لیکر فلم بنا کر ایک محدود سرکٹ میں اپنی کامیابی اور دشمن کی ناکامی کا ڈھول پیٹنے سے بہتر ھے کہ آپ خود کو زمانے کی چال سے ہم آہنگ کریں اور اور وہی بجٹ سمارٹلی استعمال کرتے ہوئے دشمن کو صحیح اور جدید ترین فورمز سے دندان شکن جواب دیں ۔
اب کچھ Scared Game کی بابت بات ہو جائے۔ آئی ایم ڈی بی سے 2•9 اور rotten tommatos سے 89 فیصد ریٹنگ پاکر یہ سیریز اس سال کی ٹاپ ٹی وی سیریز میں جگہ پا چکی ہے۔  ایک لائن میں کہوں تو فلم کا موضوع بین الاقوامی دہشت گردی ھے اور جہاں دہشت گردی کی بات ہو وہاں ہمارے دشمن، مملکتِ خُداداد کو اس میں شامل کرنا اپنا قومی ایجنڈا سمجھتے ہیں سو اُسی ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ جدید پلیٹ فارم استعمال کیا گیا اور ایک ایسی ٹی وی سیریز لانچ کی گئی جس سے دشمن اپنا ایجنڈا باآسانی زبان زدوعام کرسکیں ۔
اس ٹی وی سیریز کو ہر طرح کے مصالحے سے آراستہ کیا گیا ھے اور خصوصا نوجوان نسل میں اسے مقبول بنانے کے لیئے انتہائی لُچر لینگوئج، تمثیلات اور فحش سینز سے مزیئن کرنے میں کوئی کمی روا نہی رکھی گئی۔ جسکا ثمر ڈرامہ لانچ کرنے والوں کو ان کی توقع سے زیادہ ملا ھے ۔
یہاں یہ واضح کر دوں کہ سیریز کا موضوع صرف پاکستان مخالفت نہیں بلکے دہشت گردی کے تانے بانے بڑی خوبصورتی سے مکروہ سیاست دانوں سے جوڑے گئے مذہب کا سیاست مین استعمال اور پھر سیاست دانوں کا لنک انڈر ورلڈ سے بھی بتایا گیا ھے مگر انڈیا کا وہ انڈر ورلڈ گینگ ہی کیا جسمیں کسی مسلمان کا نام نا آئے۔ سو اس سیریز میں بھی آپ کو کچھ ایسی کڑوی سچائیاں دیکھنے کو ملیں گیں۔ مجموعئ طور پر بہت اچھی پریزینٹیشن سے آراستہ مگر کسی حد تک کمزور سٹوری لیئے یہ سیریز آپ کے فارغ وقت کا اچھا نعم البدل ثابت ہو سکتی مگر خیال رھے کہ یہ سیریز PG ریٹنگ ھے ۔

بشکریہ: مکالمہ
[imdb]tt6077448[/imdb]
x (x)
x (x)
Categories
FilmiTips Urdu Reviews

ایک انڈین فلم کا ریویو۔ احمد ثانی

فلم ری ویو ۔ کارواں مرکزی کاسٹ ۔ دلگیر ، سلمان، عرفان خان، مہتیلا پارکر ۔
حیراں ہوں کہ ایسی سٹوری پر فلم بھی بن سکتی ھے مزید حیراں ہوں کہ نا صرف فلم بن سکتی ھے بلکے ایک ٹیریئجک موؤمنٹ کو قہقہ خیز بھی بنایا جا سکتا ھے ۔ فلم کے ڈائرئکٹر ہیں مسٹر آکرش کھرانہ جو کہ اس سے پہلے متعدد فلمز کے رائٹر رہے ہیں (کرش، کرش 3، کائٹس ) اور اس فلم میں سکرپٹ، سٹوری رائٹنگ کے ساتھ ساتھ بطور ڈائریکٹر انکی یہ ڈیبئو کاوش ہے ۔ ہیٹس آف !ایک ڈائریکٹر /رائٹر جنہوں نے ایک لو بجٹ مووی کو باکس آفس بلاک بسٹر میں بدل دیا۔ میرے اندازے کے مطابق یہ مووی اس قدر لو بجٹ ہو گی کہ اس فلم کا سارا خرچہ اپالو ٹائر اور ساوتھ انڈیا ٹور ازم ڈپارٹمنٹ کے پروموشن بجٹ سے ہی پورا کر لیا گیا ہو گا ۔ریاست کیرالہ کے دو ہل سٹشنز کوچی اور اُؤٹی کے خوبصورت دلفریب مناظر سے سجی یہ فلم ایک منفرد روڈ ٹرپ سٹوری ھے فلم کی جان عرفان خان کی جاندار پرفارمنس ہے جس کے ایک دو سینز پر تو آپ ہنس ہنس کر پیٹ پکڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ یہ پہلی فلم ہو گی جس کے لیئے میں یہ ریکمنڈ کروں گا کہ کاغذ قلم ساتھ لیکر یہ فلم دیکھنے بیٹھیں اس کے کے کئ سنجیدہ ڈائیلاگ بہت کمال کے ہیں۔ میرے لیئے تو یہ فلم کمال حیرت سے مزین تھی کہ کس طرح رائٹر نے ایک ٹریجئک سٹوری کو کامیڈی بنایا اور پھر کسطرح ڈائریکٹر نے اسے خوبصورت شاعری سے بھرپور گانوں سے آراستہ کیا ۔
عرفان خان کے پرستاروں اور ان تمام لوگوں کے لیئے جو موڈ بوسٹر کی تلاش میں ہوں ، یہ ایک لاجواب فلم ہے۔
نوٹ ۔ ( میں نے یہ فلم سینما میں دیکھی ہے ۔ کسی اور کا گھر بیٹھ کر پائریٹڈ ڈاؤن لوڈنگ کے ذریعے دیکھا جانے والا ایکسپیریئنس مختلف ہوسکتا، بلاشبہ سینمٹک تھیم فلم کے حسن کو دو آتشہ کرتی ہے ۔ اگر جیب اور دل اجازت دے تو یہ فلم سینما میں دیکھیں ) تمام بڑے شہروں میں اب اچھے اور صاف ستھرے سینی پلیکس کھل چکے ہیں ۔ یہ فلم آٹھ سے اسی سال تک کا ہر فرد بلا جھجک دیکھ سکتا ہے ۔

بشکریہ: مکالمہ

[imdb]tt7919680[/imdb]]

Categories
FilmiTips Urdu Reviews

طیفا اِن ٹربل (تجزیہ) ۔۔۔ احمد ثانی

ڈائریکٹر ۔ احسن رحیم 

رائٹر ۔ احسن رحیم ۔ علی ظفر اور دانیال ظفر 

نمایاں کاسٹ علی ظفر۔ علی ظفر اور صرف علی ظفر 

دیگر اداکار ۔ احسن رحیم کے نوّے کی دھائی کے میوزک البم کے پرااااااانے ساتھی اور جاوید شیخ، محمود اسلم (بلبلے فیم)

فلم کا دورانیہ ۔ 30۔2 منٹ آفٹر ایڈیٹنگ 

آئی ایم ڈی بی ۔ ریٹنگ ۔ 8•8 

پاکستانی فلم انڈسٹری ایک ایسے دور سے گزر رہی ھے جہاں ہمیں ہر اچھے طریقے پر پرموٹ اور مارکیٹ کی گئی فلم ایک دھماکہ خیز فلم لگتی ھے مانڈوی والا اور جیئو کے بینر تلے ریلیز ہونے والی یہ فلم بھی ریلیز سے پہلے کچھ ایسا ہی تاثر لیئے ہوئے تھی اور ریلیز کے تین دن بعد بھی یہ فلم اپنا یہ تاثر کسی حد تک قائم رکھنے میں کامیاب رہی۔ مگر یہ فلم کوئی ایسی ریکارڈ بریکنگ فلم ثابت ہو گی ایسا کوئی دعوئ پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔ ڈھائی گھنٹے کی اس فلم میں سوا دو گھنٹے تک کا فوٹیج علی ظفر کھا گئے جو وقت باقی بچا اسمیں ڈائریکٹر احسن رحیم اپنے نوے کی دھائی کے گانے بیک گراؤنڈ میوزک کے طور پر سنواتے رھے۔

گُڈوِل کس قدر اہم ہوتی ھے یہ بات اس فلم کو دیکھ کر اچھی طرح اُجاگر ہوتی ھے بے چارے  ساحر لودھی کے پاس بھی اگر علی ظفر جیسی گڈول ہوتی گو اسکی فلم کافی کامیاب ہو سکتی تھی کیونکہ ساحر لودھی اور علی ظفر کی اس فلم میں کامن بات اپنی اپنی پروجیکشن واضح نظر آتی ھے مگر طیفا ان ٹربل ساحر لودھی کی فلم راستہ سے تکنیکی اعتبار کے طور پر بھی بہت بہتر ھے۔ علی ظفر کی پروجیکشن کے علاوہ فلم بین اس فلم میں لاہور خصوصا اندرون لاہور کی جھلک اور میاں صلو کی حویلی سینما بیٹھے ڈیٹیل سے دیکھ سکتے ہیں۔ 

عکس بندی بہت عمدہ ھے خصوصا پولینڈ میں فلمائے گئے سین اور نادرن لائٹس کی عکس بندی کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔ میوزک بھی اچھا ھے خصوصا ایک گانا دیکھتے ہوئے انگلش فلموں کے شائقین کو کو twilight saga کا ہنی مون سیئن یاد آسکتا۔ جہاں تک مجھے یاد ھے علی ظفر اپنے کسی سانگ میں (شاید احسن رحیم کی ڈائریکشن میں ہی) جیک سپارو (pirates of the Caribbean)

کے ہمشکل بننے کی کوشش کر چکے ہیں وہ کامیاب کوشش انہیں اتنی بھائی کہ اس فلم میں وہ ایک کمپلیٹ سین پائیرٹس آف کیریبیئن سے کاپی کر کے دکھا رھے ہیں جو کہ مجھے تو صرف وقت کا ضیاع لگا ۔ 

علی ظفرکیونکہ گا بھی لیتے ہیں اس لیئے فلم کا ہر گانا آپ کو ان ہی کی آواز میں سننا بھی پڑے گا ۔ ان سب آزمائشوں کے بعد جب آپ اینڈ پر پہنچیں گے تو اینڈ کو خوامخواہ ڈریگ کر کے پھر ڈریگ کر کے اور پھر ڈریگ کر کے فلم کو ڈرامائی اینڈ دینے کی ناکام کوشش کی گئی ھے جبکہ اس فلم کا اینڈ فلم شروع ہونے کے پندرہ منٹ بعد ہی ہر فلم بین آپ کو بتا سکتا ھے۔ 

یہ فلم  میں پنجاب نہیں جاؤں گی، ایکٹر ان لاء یا جوانی پھر نہیں آنی جتنی کامیاب شاید نا ہو پائے کیونکہ سٹوری اس قدر جاندار نہیں۔ جیو اور علی ظفر کے حاسدوں کو مفت مشورہ ھے کہ اپنے ملک میں عدالتیں آجکل کافی ایکٹو ہیں، فلم میں “بٹ” کاسٹ کو لیکر بہت سارا مواد ایسا ھے جس پر اعتراض گھڑ کر فلم کی نمائش رکوائی جا سکتی ھے ۔ 

میری نظر میں اوور آل اس فلم کے دس میں چھ نمبر اونلی  کیونکہ بولے تو جسٹ ٹائم پاس فلم ھے ۔ فلم کی ہیروئین مایا علی اس فلم میں اپنے رول سے انتہائی انصاف کرتیں نظر آئیں ُاور چھوٹی سکرین سے حاصل اپنی اداکارانہ صلاحیتیں بطور ہیروئین خوبصورتی سے بکھیرتی نظر آئیں۔ یقینا  ایک اچھا اضافہ ثابت ہو گیں ۔

بشکریہ: مکالمہ

[imdb]tt08043306[/imdb]

ُ

Categories
FilmiTips Urdu Reviews

بارہ مسالے کی چٹخارے دار چاٹ۔۔۔۔احمد ثانی

1. Iron man , 2. Thor
3. Black Panther
4. Caption America & Team
5. Guardian of Galaxy Team
6. Black widow 7. Spider man
8. Dr. Strange 9. War Machine team
10.Vision
11, Avenger (Wanda maxi, Lieutenant Canada)

Vs.

12 . Thanos (Josh Brolin)

مارول اور ڈزنی سٹوڈیوز کی اب تک کی سب سے مہنگی پروڈکشن پاکستانی پیسوں کے حساب سے بس صرف 3 ہزار کروڑ  کی ہے۔ اس فلم میں اوپر لکھے گئے سارے کیریکٹرز شامل کیے گئے ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے مارول کی تاریخ میں کہ ان سب کو ایک ہی فلم میں یکجا کیا گیا ہے۔

فلم بین خصوصا ً حالی ووڈ فلم بین شائقین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اوپر دیئے گئے مصالحہ جات اور اتنے بڑے بجٹ کے بعد کیا شاہکار تخلیق کیا گیا ہو گا۔ فلم کی سب سے اچھی بات کہ اسے ایک ہی episode میں لپیٹنے کی کوشش نہیں کی گئی ورنہ یقینا ً اس چاٹ کا بیڑہ غرق ہو جاتا۔ یہ فلم دو حصوں پر مشتمل ہے جس کا نیکسٹ پارٹ اس سال دسمبر تک متوقع ہے۔

فلم کی سٹوری صدیوں پرانی وہی کشمکش ہے  جو آپ بہت سی کہانیوں میں پڑھ چکے ہوں گے اور بہت سی فلموں میں دیکھ چکے ہوں گے یعنی طاقت،پاور، اتھارٹی کو اپنے ہاتھ میں یکجا کرنا اور پھر اس کا فرعونیت زدہ استعمال۔ چاٹ پرانی مگر پریزینٹیشن بہت شاندار ہے ۔ شاید باکس آفس پر یہ فلم بجٹ کے بلمقابل بھاری بزنس اور بہت زیادہ ( ریٹرن آن انویسٹمنٹ) نا دے پائے مگر کئی نئے ریکارڈ ضرور بنا پائے گی. خوبصورت بات یہ کہ کرداروں کی آپس میں چٹ چیٹ اور “جگت بازی” نے فلم کی چاشنی کو دوبالا کیے  رکھا ہے ۔ مگر ساتھ ہی ساتھ فلم کے مرکزی ولن کا جذباتی بیک گراؤنڈ  اور پُر اثر ڈائیلاگ بھی اکثر سین  میں ولن کے لیے  ہمدردیاں بٹورنے میں کچھ کامیاب رہے۔

گیم آف تھرون ڈرامے کے شہزادہ ٹائرئین لینسٹر Peter Dinklage گولڈن گلوب ایورڈ ونر /ایمی ایوارڈ ونر / سکرین گلڈ ایوارڈ ونر امریکہ کا ہائیسٹ پیڈ ٹی وی ایکٹر صرف ساڑھے چار فٹی کوتاہ قامت مگر ایکٹنگ کا ہمالیہ کو بھی آپ اس فلم میں ایک مختصر مگر خاص  کردار ادا کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔
نتیجہ یہ کہ فل پیسہ وصول فلم ہے، سینما میں فیملی کے ساتھ آرام سے دیکھیں، اور مارول کے دیوانوں کے لیے   ایک خوش خبری یہ بھی ہے  کہ  شاید  نیکسٹ پارٹ میں ایونجر کے ساتھ جسٹس لیگ بھی جلوہ نما ہو گی ۔

بشکریہ: مکالمہ

[imdb]tt4154756[/imdb]

x (x)
x (x)
x (x)
x (x)