Categories
Urdu Reviews

Urdu Review: The Patience Stone – Original title: Syngué sabour, pierre de patience, سنگِ صبور

افغان فلم: سنگِ صبور
(نوٹ: یہ تحریر جناب محمد عامر ہاشم خاکوانی کی درخواست پر نائنٹی ٹو نیوز کے لئے لکھی گئی تھی لیکن تحریر پڑھنے کے بعد انہوں نے اسے شائع کرنے سے انکار کردیا ـ سو اب یہ عالمانِ فیس بک کی نذر کی جاتی ہے )
ذوالفقار علی زلفی
ایرانی اور کسی حد تک افغان اساطیر میں “سنگِ صبور” اس پتھر کو کہتے ہیں جو صبر و تحمل کے ساتھ کسی انسان کے دردِ دل کو سنے ، مانا جاتا ہے سنگِ صبور سے حالِ دل کہنے کے بعد من کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے ـ سنگِ صبور کو عموماً انتہائی ذاتی نوعیت کے رازوں میں حصہ دار بنایا جاتا ہے ـ مائتھالوجی کے مطابق انسان کے رازوں کو سننے کے بعد سنگ صبور ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے ـ
2012 کی افغان فلم “سنگِ صبور” (The Patience Stone) ایک ایسی جوان عورت کی کہانی ہے جو سنگِ صبور کو اپنی بپتا بتارہی ہے ـ یہاں مگر سنگِ صبور کوئی پتھر نہیں بلکہ اس کا نیم مردہ بوڑھا شوہر ہے ـ شوہر جنگ متاثر ہونے کی وجہ سے نہ ہل جُل سکتا ہے اور نہ ہی بول سکتا ہے ـ وہ ساکت و صامت حالت میں اپنی بیوی کی خفیہ زندگی سے آشنا ہوتا رہتا ہے ـ عورت کی وہ خفیہ زندگی جہاں اس کو سمجھنے کا دعوی کرنے والے مرد کی بھی کوئی رسائی نہیں ـ
فلم کے اسکرین پلے کے مطابق افغان معاشرے میں عورت بے زبان جانور کی مانند ہے، جو دل کی دل میں رکھتی ہے ـ دل کی دل میں رکھنا اس کی خواہش نہیں بلکہ قدامت پسند معاشرے کے اقدار و روایات کا اٹوٹ جُز ہے ـ
گھر کے باہر خانہ جنگی ہورہی ہے ـ گولیاں چل رہی ہیں ـ گھر میں عورت اپنے نیم مردہ شوہر کے سامنے دل کھول رہی ہے ـ اپنا بچپن جس میں بچپنے جیسا کچھ نہ تھا، خشک و بے رنگ جوانی ، بے جوڑ شادی ، جنسی نا آسودگی ، ٹوٹے خواب ، شکستہ امیدیں اور وہ خواہشات جو ایک افغان عورت پر حرام ہیں ـ
وہ مرد کی “مردانگی” کے قلعے کو پاش پاش کرکے اسے بتاتی ہے اس نے جنسی آسودگی کے حصول کا چور راستہ ڈھونڈھ لیا ہے ـ “سنگِ صبور” عورت کے دکھوں کو صبر و تحمل سے سنتا ہے مگر مردانگی پر حملہ اس کے اندر کے “مرد” کو جگا دیتا ہے ـ
فلم کا تجزیہ :
“سنگِ صبور” کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو عقدہ کھلتا ہے یہ پوری فلم دو بنیادوں پر کھڑی ہے ـ
اول؛ مذہب اسلام کی سماجی ساخت کی توڑ پھوڑ
دوم؛ پدرشاہیت کی نفی ـ
کوشش کریں گے ان دونوں پہلوؤں کا فرداً فرداً مختصر جائزہ لیں ـ
اسلامی سماجی ساخت کی توڑ پھوڑ :
اسلام کو مغربی لبرل فیمینزم کے ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا ہے ـ لبرل فیمینزم چوں کہ عورت کی طبقاتی شناخت کو غائب کرکے صرف اس کی صنفی شناخت کو مرکز میں رکھتا ہے اس لیے اسلام کی سماجی ساخت پر تنقید میں طبقاتی عنصر نظر نہیں آتا ـ اس کے ساتھ ساتھ فلم میں اسلام اور افغان سماج کے درمیان تعلق کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے ـ بعض ایسے ثقافتی مظاہر جن کا تعلق افغان دیہی سماج سے ہے ان کو بھی اورینٹلسٹ اپروچ کے تحت اسلام کے کھاتے میں ڈالا گیا ہے ـ فلم میں اسلام کی سماجی ساخت کو دو طرح سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے ـ
اول :
افغان خاتون کو مذہبی دکھایا جاتا ہے ـ وہ قرآن کی تلاوت کرتی ہے ، نماز پڑھتی ہے ، خدا سے ڈرتی ہے ، خدا کا ڈر اسے گناہ سے باز رکھتا ہے ـ درحقیقت یہ سب کچھ محض التباس ہے ـ عورت دراصل افغان مردانہ سماج کے اصول و ضوابط سے خوف زدہ ہے ـ اس کی نگاہ میں خدا ایک مرد ہے جس کے حکم سے سرتابی کی سزا بھیانک موت ہے گویا اسلام ایک معاشرتی ضابطہِ حیات نہیں بلکہ مردوں کا بنایا قانون ہے جس کا اطلاق محض عورت پر کیا جاتا ہے ـ افغان عورت مردانہ تسلط سے آزادی بھی چاہتی ہے اور اسے برقرار رکھنے کی بھی خواہش مند ہے ـ ـ پوری فلم میں وہ اسی ادھیڑ بُن میں رہتی ہے ـ گاہے آزادانہ جنسی لذت کوشی کا اظہار کرتی ہے اور گاہے اسے گناہ سمجھ کر قرآن کو سینے سے لپٹا کر بخشش کی طلب گار نظر آتی ہے ـ
ایک نوجوان مجاہد جو اسے فاحشہ سمجھ کر اس کا ریپ کرکے جاتا ہے وہ ناپاکی کا احساس کرکے غسل کرتی ہے اور اپنی عصمت لٹنے کے غم میں روتی ہے ـ یہاں ناپاکی اور عصمت کے تصورات کی تشریح افغانستان کے مردانہ سماجی تناظر میں کیا گیا ہے ـ عورت نوجوان مجاہد کو اسلامی پدر شاہیت (درحقیقت افغان پدر شاہیت) کا نمائندہ سمجھ کر ماتم مناتی ہے ـ اگلے سیکونسز میں جب عورت پر کھلتا ہے مجاہد ایک جنگ زدہ یتیم اور ستم رسیدہ ناتجربہ کار معصوم لڑکا ہے تو اس کے جذبات و احساسات بدل جاتے ہیں ـ وہ گناہ ، عصمت اور ناپاکی کے مردانہ سماجی تصورات کو طاق میں رکھ کر مرد کو اپنے زنانہ کنٹرول میں لے کر اپنے جنسی جذبات کا اخراج من چاہے طریقے سے کرتی ہے ـ اب نوجوان اسلامی پدر شاہیت کا نمائندہ نہیں بلکہ عورت کے اندر چھپی مدرشاہی آمریت کا شکار بن جاتا ہے ـ
معروف مارکسی دانش ور پاؤلو فریرے اپنی کتاب “تعلیم اور مظلوم عوام” میں لکھتے ہیں کہ “ظلم سہنے والوں میں ظالم بننے کا جذبہ شدید ہوتا ہے، انقلابی موضوعیت کے بغیر وہ موقع ملنے پر ظالم سے بھی بدترین ظلم کرنے لگ جاتے ہیں” ـ “سنگِ صبور” کی پروٹاگونیسٹ بھی اسی کیفیت کا شکار بنتی ہے ـ وہ معصوم لڑکے کا جنسی استحصال کرکے اپنی دانست میں محرومیوں کا بدلہ لیتی نظر آتی ہے ـ
ثانی :
اسلام کی مردانہ سماجی ساخت کی تخریب کے ساتھ ساتھ زنانہ نکتہِ نظر کے تحت اس کی دوبارہ تعمیر بھی کی جاتی ہے ـ جیسے مسجد کے اسپیکرز سے واعظ کی آواز آتی ہے :
“پیغمبر اسلام اپنی اہلیہ حضرت خدیجہ کو بتاتے ہیں کہ انہیں ایک ہیولا نظر آتا ہے جو پتہ نہیں جن ہے یا کوئی اور شے ـ حضرت خدیجہ پوچھتی ہیں کیا وہ اب بھی نظر آرہا ہے؟ ـ پیغمبر اثبات میں جواب دیتے ہیں ـ حضرت خدیجہ اپنے سر کے بال کھول کر پھر پوچھتی ہے کیا اب بھی موجود ہے؟ پیغمبر کہتے ہیں نہیں چلا گیا ـ بی بی خدیجہ بتاتی ہیں پھر جن یا شیطان نہیں یقیناً فرشتہ ہوگا کیوں کہ صرف فرشتے ہی عورت کے سر کے بالوں کا احترام کرتے ہیں” ـ
افغان عورت یہ واعظ اپنی خالہ کو سناتی ہے ـ خالہ اس کی تشریح کرکے کہتی ہے کہ بی بی خدیجہ صورتحال کو بھانپ گئی تھی اس لیے انہوں نے پیغمبر کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ ان پر کسی دیوانگی کا دورہ نہیں پڑا بلکہ وہ خدا کے پیغمبر بننے جارہے ہیں ـ اس سیکوینس کے ذریعے بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اگر بی بی خدیجہ یعنی عورت ایثار کا مظاہرہ نہ کرتی تو آج محمد (ص) کی جگہ وہ پیغمبر ہوتی گویا پیغمبری کی اصلی حق دار بی بی خدیجہ تھی ـ اس نکتے کو جان بوجھ کر اسکرین پلے میں نمایاں انداز میں پیش کیا گیا ہے ـ فلم کے اختتام میں جب عورت روحانی طور پر مردانہ تہذیبی تسلط سے آزادی پالیتی ہے تو فاتحانہ انداز میں کہتی ہے اب میں پیغمبر بن گئی ہوں ـ حالانکہ مردانہ تہذیبی تسلط کا اسلام یا اس کے عقائد سے براہِ راست تعلق نہیں ہے ـ پدرشاہیت کا تعلق طرزِ معیشت سے ہے ـ تاہم فلم چوں کہ افغان عورت کی محکومیت کو جدید نوآبادیاتی نظام اور افغان سماج کے فرسودہ پیداواری تعلقات کے تناظر میں دیکھنے کی بجائے پہلے سے طے شدہ خیال کے تحت اسلام کو مرکز میں رکھتی ہے اس لئے یہ گمراہ کن نتیجہ باعثِ تعجب نہیں ہوتا ـ علاوہ ازیں اسکرین پلے فیمیل پروٹاگونسٹ کی طبقاتی شناخت کو بھی حاشیے پر رکھتی ہے ـ عورت کی محکومیت میں طبقاتی شناخت کا بھی اہم کردار ہے لیکن فلم اس کو بھی کونے میں رکھ کر محض اسلام کو ہی نشانے پر رکھتی ہے ـ ان نکات کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ “سنگِ صبور” آخری تجزیے میں اسلام اور اس کے عقائد کو پدرشاہیت کی علامات مان کر ان کی کاملاً نفی کرکے مغربی لبرل فیمنزم کے اسلام بیزار نظریے کی ترویج کرتی ہے ـ
دوم :
فلم کی دوسری اہم بنیاد پدرشاہیت کی نفی ہے ـ گوکہ پدرشاہیت اور اسلام کو ایک ہی سکے کے دو رخ قرار دیا گیا ہے لیکن اس کی تنقید کے لئے الگ علامتوں کا سہارا بھی لیا گیا ہے ـ پدر شاہیت کی تنقید میں بھی مغربی لبرل فیمینزم کے نظریے کا سہارا لیا گیا ہے ـ
اسکرین پلے کے مطابق افغان معاشرہ وحشی مردوں کا مسکن ہے جہاں عورت محض ایک گوشت کا لوتھڑا اور چھید ہے جس پر تصرف ہر مرد کا سماجی لحاظ سے پیدائشی حق ہے ـ یہ بات کاملاً درست ہے ذاتی ملکیت پر مبنی سماج میں عورت بھی ایک قابلِ خرید و فروخت جنس بن جاتی ہے لیکن فلم ذاتی ملکیت پر مبنی پیداواری نظام اور عالمی سرمایہ داریت کی مداخلت پر تنقید نہیں کرتی جس نے افغان معاشرے کے مثبت ارتقا کا راستہ روک رکھا ہے ـ ہدایت کار صنفی عدم مساوات کو سطحی طور پر عورت بمقابلہ مرد بنا کر پیش کرتی ہے ـ پھر اس عدم مساوات کو مغربی اورینٹلزم کی عینک سے دکھایا جاتا ہے ـ
افغان عورت کی زبانی بتایا جاتا ہے اس کا باپ ایک ایسا وحشی درندہ تھا جو گھر کی عورتوں کو بلاوجہ تشدد کا نشانہ بناتا تھا ـ بیٹی بیچتا تھا ـ اپنے متعلق وہ بتاتی ہے کہ چوں کہ اس کا منگیتر جنگ میں مصروف تھا اس لیے ناچار اس کی شادی منگیتر کے خنجر سے کی جاتی ہے ـ یہاں خنجر کی علامت کو افغان جنگجو مرد کے عضو تناسل کی صورت برتا گیا ہے ـ خنجر ایک ہتھیار ہے جس سے فتوحات کی جاتی ہیں ـ گویا عورت ایک ایسی ملکیت ہے جسے مرد اپنے ہتھیار سے قابو کرتا ہے ـ
اس کی ساس اپنے دیگر بیٹوں سے اسے بچانے کے لیے اسے اپنے ساتھ سلاتی تھی ـ اس کا شوہر ازدواجی زندگی کے دس سالوں میں اس کے ساتھ عدم الفت پر مبنی یکطرفہ جنسی تعلقات رکھتا ہے ـ دیور اپنی بھابھی پر ہوس ناک نظر رکھتا ہے ـ شوہر جب مفلوج ہوجاتا ہے تو دیور اس انتظار میں رہتا ہے کب بھائی مرجائے اور وہ بیوہ بھابھی پر ہاتھ صاف کرسکے ـ اسی طرح محلے کا مولوی بھی اس کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے کا خواہش مند نظر آتا ہے جسے وہ ہر وقت حیض کا بہانہ بنا کر ٹالتی رہتی ہے ـ افغان مجاہدین کا کمانڈر بھی تنہا عورت کو دیکھ کر ریپ کا ارادہ باندھتا ہے لیکن جب عورت اسے بتاتی ہے کہ وہ ایک جسم فروش ہے تو کمانڈر اسے اسلام اور گناہ پر لیکچر دے کر چلا جاتا ہے ـ بعد میں بتایا جاتا ہے افغان مرد طوائفوں کا ریپ نہیں کرتے کیوں کہ اس سے ان کی مردانگی کو تشفی نہیں ملتی ـ
درج بالا چیدہ چیدہ نکات سے جو تصویر سامنے آتی ہے وہ بیک وقت جنسی گھٹن کے شکار معاشرے اور دوسرے مرد کی ذاتی ملکیت (عورت) پر قبضہ کرنے کی ہے ـ جہاں ہر مرد عورت پر للچائی نگاہیں گاڑے بیٹھا ہے ـ صنفی جبر کو مزید واضح کرنے کے لیے طلاق، بانجھ پن اور بکارت کو بھی موضوعِ بحث بنایا گیا ہے ـ عورت طلاق سے ڈرتی ہے ـ طلاق بھوکے بھیڑیوں سے پُر جنگل میں بکری بننے کے مشابہ ہے ـ طلاق سے بچنے کے لیے عورت باکرہ ہونے کے باوجود نفسیاتی خوف کے باعث ایامِ حیض میں شوہر کے ساتھ شبِ زفاف مناتی ہے تاکہ حیض کا خون بکارت ثابت کرسکے ـ بانجھ پن کے الزام کے باعث جب ساس اس کے شوہر کو دوسری شادی کا مشورہ دیتی ہے تو وہ پیروں فقیروں سے علاج کے بہانے ایک اجنبی مرد سے “زنا” کرکے خود کو حاملہ کرواتی ہے ـ اسی طرح مجاہد کمانڈر کا طوائف کے ریپ سے احتراز اس بات کی علامت ہے کہ افغان مرد اس عورت پر قبضہ کرنے کی کوشش کو اپنی مردانگی کے خلاف تصور کرتا ہے جو کسی کی ذاتی ملکیت نہ ہو ـ
اسلامی سماجی نظام جو فلم کے مطابق درحقیقت مردانہ پدر شاہیت کی علامت ہے کے باعث عورت زنا کو گناہِ کبیرہ گردانتی ہے ـ شوہر کے علاوہ دیگر مردوں کو جسم پر تصرف دینے سے منکر نظر آتی ہے ـ شوہر کے خنجر کو پاسبان مان کر اس کے ذریعے مردانہ تصور عفت کو اپنا مان کر اس کا تحفظ کرتی ہے ـ لیکن جب معاملہ اس کی اپنی زندگی اور مستقبل کا ہو تو وہ یکایک پینترا بدل کر متضاد ردعمل کا اظہار کرکے اسلامی سماجی نظام کے اقدار و روایات کو توڑ دیتی ہے ـ
عورت کے اس متضاد ردعمل کی متعدد نفسیاتی توجیہات ہوسکتی ہیں ـ تاہم افغانستان کے پسماندہ پیداواری تعلقات کے تناظر میں عورت کے ردعمل کو غیر مساویانہ پیداواری رشتوں میں تلاش کیا جاسکتا ہے ـ جہاں عورت محض ایک عضوِ معطل جبکہ مرد عالمی سرمایہ داریت کی زائد منافع خوری کی آگ میں جھلستا وجود ہے ـ اس کو اسلام سے جوڑنا یقیناً درست نہ ہوگا ـ
حرفِ آخر
قدامت پسند افغان سماج کے تناظر میں یہ فلم کسی تازیانے سے کم نہیں ـ افغان ناول سے ماخوذ اسکرین پلے اور گرد و پیش کے مناظر سلیقے کے ساتھ یکجا کئے گئے ہیں ـ ہدایت کار یقیناً داد کے مستحق ہیں ـ تعریف کے قابل افغان عورت کے کردار میں جلاوطن ایرانی اداکارہ گل شیفتہ بھی ہیں جنہوں نے بڑی خوب صورتی سے اس کردار کو نبھایا ہے ـ
ہدایت کار Jean-Claude فرانس سے جبکہ مرکزی اداکارہ گل شیفتہ کا تعلق چونکہ ایران سے ہے اس لئے اس فلم کو مکمل طور پر افغان فلم قرار دینا تھوڑا مشکل ہے ـ اسی لئے اسے اگر افغان فرنچ مشترکہ پیشکش قرار دیا جائے تو بہتر رہے گا ـ
[imdb]tt1638353[/imdb]

Leave a Reply

Your email address will not be published.